ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے موجودہ حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی سے لیکرگلگت تک پاکستانی شیعہ مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے لیکن ملک کی ریاستی قوتیں اس وحشیانہ تشدت کیخلاف کوئی ردعمل نہیں دیکھارہے ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں جمعہ کو یوم احتجاج کے طور پر منایا گیا، پاکستان بھر کی تمام مساجد میں آئمہ جمعہ نے ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی مذمت اور حکمرانوں سمیت اعلٰی عدلیہ کی بےحسی پر احتجاج کیا گیا۔ کوئٹہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ سید ہاشم موسوی نے سانحہ بابوسر اور یوم القدس کراچی کیخلاف شدید غم وغصے کا اظہارکیا ۔ نماز جمعہ کے بعد شام کو پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی کیخلاف ایک احتجاجی ریلی بھی کوئٹہ امام بارگاہ نیچاری علمدارروڈ سے برآمد ہوئی ۔ ریلی کے شرکاء نے بینرزاورپلے کارڈزاُٹھا رکھے تھے جس پرموجودہ حکومت اورانتظامیہ کیخلاف نعرے درج تھے ۔ ریلی میں سینکڑوں مظاہرین نے شرکت کی ۔ ریلی کی قیادت امام جمعہ کوئٹہ ومجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ علامہ سید ہاشم موسوی کررہے تھے ۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے موجودہ حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی سے لیکرگلگت تک پاکستانی شیعہ مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے لیکن ملک کی ریاستی قوتیں اس وحشیانہ تشدت کیخلاف کوئی ردعمل نہیں دیکھارہے ۔پاکستان کیخلاف کام کرنے والی سازشی عناصرشیعہ سنی میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہے ۔ لیکن دونوں مکتب فکرکے رہنماؤں نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کوہی ترجیح دی ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے شیعہ عوام کوپاکستان کے دوسرے شیعہ برادری سے الگ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم اس سازش کوکامیاب نہیں ہونے دینگے ۔
علامہ سید ہاشم موسوی نے موجودہ حکومت اورانتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی میں ملوث عناصرکیخلاف جلد کاروائی کی جائے ۔ بصورت دیگرپاکستان کے تمام شیعوں کواسلام آباد کارخ کرنا پڑے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان کے اہل تشیع عوام نے صبرکا دامن تھامے رکھا ہے لیکن ہمارے صبرکا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے ۔اس موقع پرعلامہ مقصود علی ڈومکی اورعلامہ ولایت حسین جعفری نے بھی ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا ۔ احتجاجی ریلی سے سردارسعادت علی ہزارہ نے بھی خطاب کی ۔ احتجاجی ریلی بہشت زینب (ہزارہ قبرستان) میں اختتام پذیرہوئی جہاں پرشُہدائے کوئٹہ کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔
.....
/169